اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی جنوبی صوبے ہرمزگان کے گورنر جنرل نے کہا کہ ایران اور بھارت دو بڑے ممالک کے تجراتی تعلقات میں ثالثوں کو ختم کرنے اور اپنا کاروبار براہ راست کرنے کی طرف بڑھنے میں دلچسبی رکھتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار "مہدی دوستی" نے اتوار کی شام کو اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات بھارتی سفیر "گڈم دھرمیندر" سے ایک ملاقات کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی، تاریخی اور بے پناہ مشترکات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے اچھے اور دوستانہ تعقات و نیز یہ مشترکات، مستقبل میں تعاون بڑھانے کے اہم مواقع ہیں۔
دوستی نے تجارت اور سرمایہ کاری کی ترقی کے لیے سہولیات فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ بھارت بھی اس سلسلے میں عملی اقدامات کرے گا۔
ہرمزگان کے گورنر جنرل نے کہا کہ ایران کی بندرگاہیں بالخصوص صوبہ ہرمزگان، وسطی ایشیائی منڈی تک بھارت کی رسائی کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ہم بھارتی برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو ریل اور زمینی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے بھارت اور صوبہ ہرمزگان کے درمیان تجارت کو بڑھانے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل پر زور دیا اور کہا کہ ہم جلد ہی اپنے سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندوں کو متعارف کرائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ بھارت بھی جلد از جلد اپنے نمائندوں کو اس ورکنگ گروپ کی تشکیل دینے کے لئے متعارف کرائے گا۔
ہرمزگان کے گورنر جنرل نے سامان کی نقل و حمل سے متعلق کہا اس شعبے میں، ہمیں میکرو سطح پر فیصلوں کی ضرورت ہے، لیکن صوبے کے اختیارات کے اندر، بھارتی تاجروں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے لیے مناسب شرایط کی فراہمی ہوجائے گی۔
دراین اثنا تہران میں بھارتی سفیر نے بھی ہرمزگان کے گورنر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان گہرے بینکنگ اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں اور بندر عباس اور ہرمزگان، تعلقات کی ترقی کے لیے سب سے اہم نقطہ ہو سکتے ہیں۔
بھارتی سفیر نے خلیج فارس کے خصوصی اقتصادی زون، شہیدرجائی بندرگاہ کا دورہ کرنے اور بندر عباس چیمبر آف کامرس کے اراکین کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا ان ملاقاتوں میں مختلف شعبوں کی صلاحیتوں کی وضاحت کی گئی، جس سے ہرمزگان کا بنیادی ڈھانچہ اور مستقبل کے تعلقات سے متعلق بہتر معلومات حاصل ہوں گی۔
انہوں نے جنوبی-شمالی راہداری تک رسائی کو صوبہ ہرمزگان کی صلاحیتوں میں سے ایک کے طور پر سامان کی ترسیل کے شعبے میں تعلقات کو وسعت دینے کا ذکر کیا اور کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے مستقبل کے دورہ بھارت کے دوران ہم ہرمزگان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے سے متعلق اپنے تمام مثبت خیالات پیش کریں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان زرعی مصنوعات کی درآمد اور برآمد میں سہولت فراہم کرنا اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ؛دونوں فریقین کے درمیان زیر بحث موضاعات میں سے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242